پادریوں کی جانب سے جنسی ہراساں کی گئی خواتین سامنے آگئیں
sexual harassment lust priest reveals churches

رواں ماہ فروری کے آغاز میں رومن کیتھولک کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے اعتراف کیا تھا کہ پادریوں نے راہباؤں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور انہیں جنسی غلام بھی بنائے رکھا۔

پوپ فرانس نے مشرق وسطیٰ کے دورے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ چرچز ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ ان کے پیش رو پوپ بینڈکٹ کو راہباؤں کا وہ مقام بند کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا، جہاں پادری انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔اور اب اس مقام پر جنسی طور پر ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنائی گئی خواتین سامنے آئی ہیں اور انہوں نے پہلی بار اپنے ساتھ ہونے والے نازیبا واقعات پر کھل کر بات کی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی رپورٹ میں پادریوں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کی گئی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی گئی خواتین کی کہانیاں شائع کیں ہیں۔نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں پادریوں کی جانب سے کئی سال تک جنسی تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی جانے والی خواتین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ تاحال انہیں قانونی انصاف نہیں مل سکا۔ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جنسی تشدد اور نامناسب رویے کا نشانہ بننے والی خاتون لوسی نے نشریاتی ادارے کو اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں سے متعلق بتایا۔لوسی کو سوئٹزرلینڈ میں واقع راہباؤں کے بنائے گئے ’کمیونٹی آف سینٹ جوہن‘ سینٹر میں پادری کی جانب سے پہلی بار 18 برس کی عمر میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔لوسی کے مطابق وہ کئی ماہ تک پادری کے نامناسب رویے کو برداشت کرتی رہیں، کیوں کہ وہ پادری کے مقابلے کمزور تھیں۔لوسی کا کہنا تھا کہ پادری نے انہیں مذہبی اور روحانی حوالے سے بلیک میل کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور انہیں احساس دلایا وہ پادری سے ہر حوالے سے کم تر ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی سال تک جنسی اذیت برداشت کرنے کے بعد لوسی کو نجات ملی اور بعد ازاں انہوں نے شادی کرلی اور اب وہ بچوں کی ماں بن چکی ہیں، تاہم تاحال انہیں قانونی طور پر انصاف نہیں ملا۔پادری کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کی گئی ایک اور ٹرینی راہبا لینی موری نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعے کی تفصیل بتائی۔لینی موری کا کہنا تھا کہ وہ بھی ’کمیونٹی آف سینٹ جوہن‘ کے فرانس میں موجود ایک سینٹر میں راہبا بننے گئی تھیں اور انہیں پہلی بار 20 سال کی عمر میں نامناسب جنسی رویے کا نشانہ بنایا گیا۔ لینی موری کا کہنا تھا کہ انہیں نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر جنسی اذیت دی گئی جو ان کے لیے حد سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔لینی موری کے مطابق انہیں پادری کی جانب سے ڈیڑھ دہائی تک جنسی اذیت دی گئی اور وہ اس اذیت میں ٹوٹ کر کھوکھلی بن چکی تھیں۔سی این این نے اپنی رپورٹ میں پادریوں کی جانب سے کئی سال تک جنسی طور پر ہراساں کی گئی دیگر خواتین کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ پہلی بار خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بولنے لگی ہیں اور انہیں امید ہے کہ اب انہیں انصاف ملے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کی جانب سے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف بات کرنے کا سلسلہ پوپ فرانسس کی جانب سے دیے گئے بیان کے بعد شروع ہوا۔جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین نے پوپ فرانسس کے بیان کو بم بلاسٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اب انہیں انصاف ملے گا۔رپورٹ میں ’کمیونٹی آف سینٹ جوہن‘ کے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خواتین کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں سچائی ہے، تاہم کس خاتون کے ساتھ کیا ہوا اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔دوسری جانب ویٹی کن کے نمائندے نے بھی ایسے الزامات کی تحقیقات جاری ہونے کا اعتراف کیا۔خیال رہے کہ ’کمیونٹی آف سینٹ جوہن‘ خود مختار طریقے سے کام کرنے والے مسیحیوں کے ایسے مذہبی ادارے تھے جہاں نوجوان پادریوں اور راہباؤں کی تربیت کی جاتی تھی۔ یہ ادارے فرانسیسی مسیحی عالم میری ڈومنک فلپس نے بنائے تھے۔’کمیونٹی آف سین جوہن‘ کا پہلا ادارہ 1975 میں قائم کیا گیا جو صرف مرد حضرات کو مذہبی و روحانی تربیت اور تعلیم دینے کے لیے تھا۔بعد ازاں اسی ادارے کے سوئٹزرلینڈ اور فرانس سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں مزید سینٹرز قائم کیے گئے، جن میں سے راہباؤں کی تربیت کے سینٹرز بھی تھے۔راہباؤں کو فرانس اور سوئٹزرلینڈ کے سینٹرز میں جنسی تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ان سینٹرز میں راہباؤں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سب سے پہلے 2006 میں سامنے آئے تھے، بعد ازاں ایسے واقعات کی رپورٹس میں اضافہ ہوا۔سینٹرز میں راہباؤں کو جنسی طور پر اذیت دینے اور انہیں جنسی غلام بنائے رکھنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد رومن کیتھولک کے سابق روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ نے ان سینٹرز کو 2013 میں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان سینٹرز کو بنانے والے میری ڈومنک فلپس 2006 میں چل بسے تھے اور ان کی موت کے بعد سینٹرز میں تربیت لینے والے مذہبی پشواؤں نے ان کے رویے پر کھل کر بات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ راہباؤں سے درست انداز میں پیش نہیں آتے تھے۔پادریوں کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی گئی خواتین ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کہ حال ہی میں ویٹی کن سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہاں کے 80 فیصد پادری ہم جنس پرست ہیں۔یہ انکشاف ویٹی کن کے حوالے سے لکھی گئی فرانس کے صحافی فریڈرک مارشل کی کتاب میں کیا گیا ہے، جسے 21 فروری کو 8 مختلف زبانوں میں 20 سے زائد ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔اس کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویٹی کن میں ہر 5 میں سے 4 پادری ہم جنس پرست ہیں اور ویٹی کن کے پادری ہم جنس پرستی کے رجحان کے تشہیر کرتے ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں