یورپی ماہرین نے ماں کے دود ھ کا نعم البدل کس جانور کے دودھ کو قرار دیا ؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
mother europe milk

اگر آپ کو کوئی گدھی کا دودھ پینے کا بولے تو آپ کے لئے ایسا تصور کرنا بھی محال ہوگا جبکہ یورپ میں اسے شفا ہی شفا قرار دے دیا گیا۔

یورپی ماہرین نے گدھی کے دودھ کے درجنوں فوائد گنوانے کے بعد اسے ننھے بچوں کے لئے بھی ماں کے دودھ کا بہترین نعم البدل قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یورپ میں کی گئی مختلف تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے بچے جو ماں کا دودھ نہ پیسکتے ہوں یا تو پھر کسی الرجی کے باعث گائے یا بکری کا دودھ نہ پی سکتے ہوں تو ان کے لئے سب سے اچھا نعم البدل گدھی کا دودھ ہے۔متعدد تحقیقات کے بعد یورپی ماہرین نے یہ بات اخذ کی کہ گدھی کا دودھ بریسٹ ملک سے کافی ملتا جلتا ہوتا ہے۔یورپی ماہرین نے بتایا کہ اس میں گائے کے دودھ کی نسبت کہیں زیادہ پروٹین اور وٹامن پائے جاتے ہیں جبکہ اس میں سیچوریٹڈ چکنائی کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔اٹلی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بریسٹ ملک میں پائی جانے والی کیسین پروٹین کی دو قسمیں گدھی کے دودھ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ قدرتی جراثیم کش مادے لائسوزائم سے بھی مالا مال ہوتا ہے جو بریسٹ ملک میں بھی پایا جاتا ہے۔اس حوالے سے سائنسدانوں نے بتایا کہ عموماً گائے یا بکری کے دودھ یا اس سے بنی اشیاء کو بریسٹ ملک کا نعم البدل قرار دیا جاتا ہے لیکن کچھ بچوں کو گائے اور بکری کے دودھ سے بھی الرجی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کے لئے گدھی کا دودھ ہی واحد حل ہے۔سائنسی جریدے ‘جرنل آف پیڈیاٹرکس’ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی گدھی کے دودھ کو بچوں کے لئے ڈیری مصنوعات کا متبادل قرار دیا گیا ہے۔ یورپ میں ہونے والی ان تحقیقات کے بعد گدھی کے دودھ کی مانگ میں حیرت انگیز اضافہ ہورہا ہے

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں