40سال سے کم عمر افراد کیلئے ایرانی ویزہ کی کوئی پابندی نہیں ، ایرانی قونصل جنرل لاہور
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
iranian years passports

پاکستانی زائرین کو سہولیات کی فراہمی پاکستانی تاجروں کو ایرانی منڈیوں تک رسائی میری اولین ترجیح ہیں ،فوری طور پر میڈیکل انشورنس کی فیس ایک ہزار روپے سے کم کر کے پانچ سو روپے کر دی ہے

دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستانی فوج کا کردار قابل تحسین ہے ،سی پیک کے حامی ہیں ،پاک ایران گیس منصوبہ کی تکمیل پاکستان کی ترقی کو چار چاند لگا دے گا ،ایک ماہ کے اندر پیپر ویزہ شروع کر رہے ہیں،40سال سے کم عمر افراد پر ایرانی ویزہ کی کوئی پابندی نہیں ہے ،ایران اور پاکستان دو دوست ملک ہیں ،کوئٹہ،پشاور،اسلام آباد،لاہور،کراچی سے مشہد اور تہران کے لیے براہ راست فلایٹس شروع کرنے کے خواہاں ہیں ان خیالات کا اظہار ایرانی قونصل جنرل لاہور مجید صادقی دولت آبادی نے انٹرویو میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ تقریباََ18سال بعد مجھے دوبارہ لاہور میں ذمہ داری دی گئی ہے مجھے دلی طور پر پاکستان سے لگاؤ ہے اہل لاہور بڑی محبت کرنے والے لوگ ہیں، پاکستانی اور ایرانی تاجروں کو قریب کرنا پاکستانی زائرین کی مشکلات کو کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا میری ترجیحات ہیں ،میڈیکل انشورنس کی فیس 1000روپے سے کم کر کے 500روپے کر دی ہے ،لیبارٹری کو فوری طور پر فیس500روپے سے کم کر کے400روپے کرنے کی ہدایت کی ہے ،میڈیکل رپورٹس اور ویزہ کے حوالے سے جو مشکلات ہیں ان کو حل کر رہے ہیں ،40سال سے کمعمرافرادپر ایرانی ویزہ کی کوئی پابندی نہیں ہے البتہ نوجوانوں کو ویزہ جاری کرتے وقت احتیاط ضرور کی جاتی ہے کیونکہ نوجوان ایران کے ذریعے ترکی اور دیگر ممالک میں جا کر غائب ہو جاتے ہیں یا داعش میں شامل ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ بھیک مانگنے والوں کے گروپوں میں شامل ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں اس لیے 40سال سے کم عمر افراد کی سکیورٹنی سخت ہوتی ہے ،انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ کے اندر اندر پیپر ویزہ کا نظام نافذ ہو جائے گا سب تیاریاں مکمل ہیں کام ہو رہا ہے جلد اجراء ہو گا،دہشت گردی کے حوالے سے ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستانی فوج کی قربانیاں لازوال ہیں ان کی قدر کی جانی چاہیے ہم پاکستانی افواج کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں ،سی پیک کے حامی ہیں،گوادر کی ترقی پاکستان کی ترقی ہو گی ،کچھ ممالک اس حوالے سے ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ،چائینز کمپنیوں سے ہماری بات چیت جاری ہے جوکردار ادا کر سکے ضرور کریں گے 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں