بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کردیا جائے، شیعہ وقف بورڈ نے بھارتی سپریم کورٹ میں حلف نامہ جمع کرادیا
babri masjid temple supreme court

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری بابری مسجد اور رام مندر تنازعے میں ایک ایسا افسوسناک موڑ آ گیا ہے جویقینا ہر مسلمان کے لیے تکلیف کا باعث ہو گا۔

ریاست کے شیعہ وقف بورڈنے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رام جنم بھومی اور بابری مسجد کی متنازعہ زمین پر مندر بنا دیا جانا چاہئے جبکہ اس سے مناسب فاصلے پر مسلم اکثریتی آبادی میں بابری مسجد تعمیر کر دی جائے۔ شیعہ وقف بورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ شیعہ وقف بورڈ کی ملکیت تھی اس لیے اس تنازعے میں سنی وقف بورڈ کو دوسرے فریقین سے مذاکرات کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ تنازعے میں کسی پرامن حل تک پہنچنے کا اختیار صرف شیعہ وقف بورڈ کے پاس ہے۔رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں یہ حلف نامہ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”بابری مسجد کی تعمیر ایک شیعہ شخص میر باقر نے کرائی تھی۔ اس سلسلے میں عام تاثر غلط ہے کہ یہ مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے تعمیر کروائی تھی۔ظہیرالدین بابر کبھی ایودھیا آیا ہی نہیں تھا۔“انہوں نے حلف نامے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ ”بابری مسجد کے نام سے جو اراضی ہے وہ شیعہ وقف بورڈ کو منتقل کی جائے تاکہ اس اراضی پر مندر تعمیر کیا جا سکے اور اس کے عوض حکومت اس جگہ سے مناسب فاصلے پر مسلم اکثریتی علاقے میں بابری مسجد کی تعمیر کے لیے علیحدہ اراضی مہیا کرے۔“ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد اوررام مندر ایک دوسرے کے قریب بننے سے جھگڑے ختم نہیں ہوں گے کیونکہ دونوں جگہوں پر لاﺅڈ سپیکر استعمال ہوں گے جو آئے روز ہنگاموں کی وجہ بنیں گے۔رپورٹ کے مطابق شیعہ وقف بورڈ نے کہا ہے کہ ”سنی وقف بورڈ پر قدامت پرست، کٹر لوگوں کا غلبہ ہے جو ہندوﺅں اور مسلمانوں کے ایک ساتھ پرامن طور پر رہنے پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ زمین چونکہ شیعہ وقف بورڈ کی ہے چنانچہ سنی بورڈ اس مقدمے میں فریق ہی نہیں ہے لہٰذا اسے تنازعے کے پرامن حل کی کوششوں سے دور رکھا جائے۔“واضح رہے کہ شیعہ وقف بورڈ کی طرف سے پہلی بار بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔دوسری طرف بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے شیعہ وقف بورڈ کا موقف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”قانون کی نظر میں شیعہ وقف بورڈ کے حلف نامے کی کوئی حیثیت نہیں۔“واضح رہے کہ شیعہ وقف بورڈ کی طرف سے یہ حلف نامہ ایسے وقت پر داخل کرایا گیا ہے جب چند دنوں میں ہی سپریم کورٹ اس مقدمے کی سماعت شروع کرنے والی ہے۔اس کے علاوہ الہٰ آباد ہائی کورٹ میں بھی اس مقدمے کی کئی درخواستوں پر سماعت 11اگست سے شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس سماعت کے لیے جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں 3رکنی بینچ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں