ننھی زینب کا قتل ، شہزاد میدان میں کود پڑے ،ایسی بات کہہ دی کہ شہریوں کے دل جیت لیے
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
ahmed shehzad qasur twitter

قصور میںزیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 7سالہ بچی زینب کو انصاف دلانے کے لیے کرکٹرز بھی میدان میں آگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب کو انصاف کی فراہمی کےلئے jusiceforzainab#کے ہیش ٹیگ کےساتھ مہم چلائی جارہی ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد زینب کے قاتل کو منتقی انجام تک پہنچانے کامطالبہ کررہے ہیں ۔زینب کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں میں اب قومی کرکٹرز بھی شامل ہوگئے ہیں ۔قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز احمد شہزاد نے بھی سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہوئے jusiceforzainab# کے ہیش ٹیگ کے ساتھ زینب کے حق میں آواز اٹھائی ،ان کی اس پوسٹ پر قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے بھی ٹوٹا ہوا دل پوسٹ کرکے اس واقعے پر رنج و غم کا مظاہرہ کیا ۔قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ” میں بطور باپ سمجھ سکتا ہوں کہ اس کے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی ، اس کے والدین سے اظہار غم کرتا ہوں اور یہ ہمارے معاشرے کے لیے سوچنے کا مقام ہے ،حکومت کو زینب کے قاتل کے خلاف سخت ترین ایکشن لیکر اسے انصاف دینا چاہیئے“۔ واضح رہے کہ قصور میں 8 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعے میں لڑکی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوگئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری ہونے کے بعد لڑکی کی لاش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا، خیال رہے کہ گزشتہ روز قصور میں شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے 8 سالہ بچی کی لاش ملی تھی، جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔دوسری جانب اس واقعے کے بعد قصور کی فضا سوگوار ہے، ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور تاجروں نے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کرکے فیروز پور روڈ کو بلاک کردیا جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن (ڈی بی اے) کی جانب سے بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔خیال رہے کہ 6 روز قبل جمعرات کو 8 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جہاں اسے اغوا کرلیا گیا تھا۔گزشتہ روز لڑکی کی بازیابی کے لیے تعینات کیے گئے ایک پولیس اہلکار کو 8 سالہ زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی، اس بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ لڑکی کو 4 یا 5 دن پہلے قتل کیا گیا۔اس واقعے کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک شخص کو لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، تاہم پولیس اس واقعے کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں