حکومت کے سر پر ارکان کی بغاوت کا خدشہ منڈلانے لگا ،رانا ثناء اللہ کے استعفی پر بھی غور
worried resign rana sanaullah

ماڈل ٹاؤن سانحہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد پنجاب میں شہباز شریف کے لئے بڑھتی ہوئی مشکلات اور کئی ارکان اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے کی افواہوں کے بعد ن لیگ نے ساری توجہ پنجاب پر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حکومت میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ اگر پنجاب میں ہمارے خلاف بغاوت ہو گئی اور حمید الدین سیالوی کی جانب سے اراکین اسمبلی کے استعفی آ گئے تو سلسلہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ سکتا ہے اور پیر حمید الدین سیالوی کو بھی منانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔اور وزیراعلی پنجاب شہباز نے خود تمام اراکین اسمبلی کے ساتھ ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ جلد تمام اراکین اسمبلی سے مل رہے ہیں تاکہ ان کے تحفظات دور کئے جا سکیں ۔پنجاب کے تمام اہم رہنماء نے شہباز شریف کو تجویز دی ہے کہ اگر حمید الدین سیالوی حکومت کے خلاف تحریک چلاتے ہیں تو اس سے پنجاب حکومت کو مذہبی ووٹ بینک کا نقصان ہو سکتا ہے اور اراکین اسمبلی بھی ہمیں چھوڑ سکتے ہیں ۔بے شک رانا ثناء اللہ استعفی دے دیں مگر پس پردہ سار ے اختیارات انہی کے پاس رہیں ۔میڈیا تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے اس پر غور کرنا شروع کر دیا ہے ۔لیکن رانا ثناء اللہ کے استعفی کو آخری آپشن کے طور پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں