پارٹی سے بغاوت یا کچھ اور ، شاہد خاقان نے مشرف کے حق میں آواز بلند کردی ، ن لیگی آگ بگولہ
ticket elections prime minister

مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ انتخابات میں تاخیر کرنے والے پر آرٹیکل 6لگایا جائے ، نیب عدالت سے نوازشریف کو انصاف نہیں ملے گا 

پرویزمشرف نے اگر کوئی خلاف ورزی نہیں کی تو انکے کاغذات نامزدگی منظور ہونے چاہئیں ، چوہدری نثار عوام میں باتیں کرنے کی بجائے پارٹی میں آکر بات کریں وہ ایسا پہلے بھی کر چکے ہیں ، جب ایک معاملہ عوام میں چلا جائے تو پارٹی بھی ردعمل دیتی ہے ، اگر ہماری پارٹی اکثریت لیتی ہے تو شہباز شریف ہی وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے ، مریم نواز کی سربراہی کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا، یہ الیکشن کمیشن کا کام تھا کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے غیر جانبدار شخصیت کا انتخاب کرتے ، حسن عسکری کے خیالات مسلم لیگ (ن) کے خلاف ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے چار نام تھے جن میں سے دو پی ٹی آئی کی جانب سے دیے گئے تھے او ردو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دیے گئے تھے ، یہ الیکشن کمیشن کا کام تھا کہ غیر جانبدار شخصیت کا انتخاب کیا جاتا ، میں حسن عسکری کو نہیں جانتا ، لوگوں نے بتایا کہ حسن عسکری کے خیالات مسلم لیگ (ن) کے خلاف ہیں ، ایسے شخص کو کیں لایا گیا جس سے مسائل جنم لیتے ، حسن عسکری کو ایسا طرزعمل اپنانا پڑے گا جس سے انتخابات پر کوئی شبہ پیدا نہ ہو، (ن) لیگ نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے غیر متنازع نام دیے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی میں کوئی تقسیم نہیں ہے ، چوہدری نثار کی اپنی سو چ ہے جس کا انہوں نے بارہا پریس کانفرنسز میں اظہار بھی کیا ہے ، چوہدری نثار عوام میں باتیں کرنے کی بجائے پارٹی میں آکر بات کریں وہ ایسا پہلے بھی کر چکے ہیں ، جب ایک معاملہ عوام میں چلا جائے تو پارٹی بھی ردعمل دیتی ہے ، یہ یہ شخصیات کی جنگ نہیں ہے ، پارٹی سے کوئی بڑا نہیں ہوتا ، پارٹی سے علیحدگی سے شخصیت اور پارٹی دونوں کا نقصان ہوتا ہے ، چوہدری نثار کو ٹکٹ ملنا چاہیے تھا ، میں بھی پارلیمانی بورڈ میں پیش ہوا ، چوہدری نثار بھی پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہوں ، پارٹی سے بڑا کوئی نہیں ہوتا، چوہدری نثار کو مشورہ ہے کہ وہ پارٹی فیصلے قبول کریں ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں