محبوبہ کا فون سننے سے منع کرنے پر بیوی کو قتل کیا ، مقتولہ حنا کے شوہر کا اعتراف جرم
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
killed lover wife

چوہنگ کے علاقہ میں موٹر سائیکل نہر میں گرنے کا بہانہ بنا کر بیوی کو قتل کرنے والے ملزم نے محبوبہ سے باتیں کرنے سے منع کرنے پر بیوی کو موت کے گھاٹ اتارا،

ملزم کا بھائی مجاہد بھی قتل کی اس واردات میں شامل تھا۔پولیس کو تفتیش کے دوران ملزم راجگیرطاہر نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنی بیوی حنا بتول کو اس لئے موت کے گھاٹ اتارا تھا کہ وہ اسے غیر عورتوں سے تعلقات رکھنے سے منع کرتی تھی اور اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھی۔ ملزم نے اعتراف جرم کیا کہ اس کے غیر عورتوں سے تعلقات قائم تھے جس پر دونوں میاں بیوی کے میں جھگڑا رہتا تھا۔ وقوعہ کے روز بھی ملزم طاہر اپنی محبوبہ زینب سے موبائل فون پر بات کر رہا تھا۔ بیوی حنا بتول کے منع کرنے پر طیش میں آ گیا اور اپنے بھائی مجاہد کے ہمراہ حنا بتول کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کر دیا اور ساتھ ہی گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور چھوٹے بھائی مجاہد کی مدد سے نعش کو نہر میں بہا دیا۔ اہل علاقہ نے نعش دکھائی دینے پر پولیس کو اطلاع دی۔ ملزم طاہر نے ڈرامہ رچایا کہ اس کی بیوی موٹر سائیکل سے گر کر ڈوب گئی۔ پولیس نے تفتیش کی تو ملز م نے قتل کا اعتراف کر لیا۔ پولیس کی تفتیش کے دوران ملزم طاہر نے بتایا کہ اس کی بیوی زندگی کی بھیک مانگتی رہی، جبکہ 5سالہ بیٹی بھی واسطے ڈالتی رہی لیکن اس کی آنکھوں میں خون اتر چکا تھا ۔ مقتولہ کے والد محمد اقبال اوروالدہ شازیہ پروین نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ ملزم طاہر ہے غیر عورتوں سے تعلقات قائم کر رکھے تھے اور اس سے قبل بھی ملزم نے ایک غیر عورت کے ساتھ تعلقات قائم کئے، بیوی کے منع کرنے پر اسے مار پیٹ کی اور گھر سے نکال دیا تھا ، وقوعہ کے روز بھی حنا بتول نے منع کیا تو ظالم نے اس کی بیٹی کی جان لے لی۔حنا بتول کے والد محمد اقبال کے مطابق اس کی بیٹی دو بچوں کی ماں تھی جس میں بڑی بیٹی نساء 5سال کی جبکہ چھوٹا بیٹا دو سال کا ہے، قتل ہونے والی حنا بتول آبائی علاقہ بورے والا میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر خلیل احمد کے مطابق ملزم طاہر راجگیری کا کام کرتا ہے اور ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزم کے بھائی مجاہد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ ملزم طاہر کی محبوبہ زینب بی بی کو اعانت جرم میں شامل تفتیش کیا جا رہا ہے جس کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں