جہانگیر ترین نےزرعی آمدن چھپائی، نااہلی ہوسکتی ہے، عدالت عظمیٰ
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
court pti jahangir tareen

سپریم کورٹ نے نااہلی کیس میں جہانگیر ترین کے وکیل کو اپنی معروضات تحریری طور پر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے آبرویشن دی ہے کہ الیکشن کمیشن میں کم اور ایف بی آر میں زیادہ آمدن ظاہر کرنے سے یہی تصور ابھرتا ہے کہ کہیں منی لانڈرنگ تو نہیں ہوئی؟

کاغذات نامزدگی کے فرام میں ہر ایک سے اپنی پوری آمدن پوچھی جاتی ہے جو آپ کے موکل کی جانب سے نہیں بتائی گئی بلکہ کاغذات نامزدگی میں زرعی آمدن کو چھپایا گیا۔ عوامی عہدہ کیلئے آمدن کے تمام ذرائع بتانا ضروری ہوتا ہے، مس ڈکلریشن ثابت ہوجائے تو نااہل کیا جاسکتا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بنچ نے جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا کہ کم زرعی ٹیکس دینے کی وجہ پنجاب ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ میں موجود خامی ہے اور ٹھیکے کی زمین سے حاصل کردہ آمدن کاغذات نزمدگی فارم میں خامیوں کی وجہ سے ظاہر نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا اگر ہم نے یہ گنجائش دے دی کہ ہولڈنگ لینڈ سے مراد صرف ملکیتی زمین ہے تو پھر آئندہ سب رعایتیں مانگیں گے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عوام کی نمائندگی کے امیدوار کیلئے ٹیکس دینا ضروری نہیں بلکہ کاغذات نامزدگی میں آمدنک ے ذرائع ظاہر کرنا لازمی ہے تاکہ وہ بدعنوانی میں ملوث نہ ہوسکے، کاغذات نامزدگی میں ایک خانہ آمدن ظاہر کرنے کیلئے دیاگیا ہے لیکن آپ کے موکل نے الیکشن کمیشن میں 120 ملین اور ایف بی آر میں 650 ملین آمدن ظاہر کی، سماعت کے آغاز پر سکندر بشیر نے پنجاب ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ کی مختلف شقیں پڑھتے ہوئے کہا کہ ایکٹ یکسوئی سے مرتب نہیں ہوا، اس لئے ابہام رہ گیا، جسٹس فیصل عرب نے کہا قانون میں کوئی سقم نہیں، آپ نے اخراجات نکال کر مجموعی زرعی آمدن ظاہر کرنا تھی، ٹیکس کا اطلاق بھی مجموعی آمدن پر ہونا تھا، وکیل کا موقف تھا کہ ایک زمین پر دو مرتبہ ٹیکس نہیں دیا جاسکتا، جو اراضی ٹھیکے پر لی گئی اس پر زمین کے مالک نے بھی ٹیکس دیا، اسلئے ٹھیکیدار پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ ٹھیکیدار سے زمین نہیں آمدن پر ٹیکس لیا جاتا ہے۔ سکندر بشیر نے کہا کہ ٹیکس کم دیایا نہیں، یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ خود سماعت نہ کرے۔ جسٹس بندیال نے کہا ہم ان سوالا ت کو تو دیکھ سکتے ہیں جو ایف بی آر نے ریفرنس میںا ٹھائے۔ سکندر بشیر نے کہا کہ معاملہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور سوالات فریم نہیں ہوئے۔ عدالت نے لینڈ ہولڈنگ کے معاملے پر فریق مخالف کے وکیل کو بھی معاونت کی ہدایت کیا ور سماعت آج تک ملتوی کردی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں