عدالت میں ہوتا تو نواز شریف کو نااہل قراردیتا، افتخارمحمد چودھری
court iftikhar muhammad chaudhry nawaz sharif

سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چودھری نے کہا ہے کہ میں عدالت میں ہوتا تو نواز شریف کو نااہل قراردیتاکیونکہ میری رائے نااہل کرنے والے ججز سے مختلف نہیں

نواز شریف کا ٹرائل بڑی حد تک ہو چکا ہے سپریم کورٹ نواز کی نااہلی کا فیصلہ سنائے اس کے حق میں ہوں، پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی غیر قانونی طور پر قومی اسمبلی کا حصہ ہیں سپریم کورٹ اس معاملے پر فوری طور پر فیصلہ سنائے ،اصغر خان کیس میں فیصلہ دیاتھا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے پاس نالج ہوتا ہے اس لئے انہیں شامل کیا جاتا ہے اور انہوں نے رپورٹیں فائل کی ہوتی ہیں ،جے آئی ٹی سے حکومت کا نہیں سپریم کورٹ کا مطمئن ہونا ضروری ہے ،آف شور کمپنیزرکھنے والے دیگرافرادکے ساتھ بھی وہی سلوک ہوناچاہئے جونوازشریف کے ساتھ ہورہاہے ،قانون موجود ہے کہ کمیشن بنانے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے اور آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی میں شامل کرنا اچھنبے کی بات نہیں ہے، عمران کی مخالفت کرتا رہونگا ، ارسلان کیس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں تھا، مشرف ڈرپوک ہے ، مجھے ہٹانے میں کسی ادارے کا کوئی کردار نہیں تھا ، میری بحالی میں نواز اورعمران کا نہیں عوا م کا کردارتھا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بہت موقع ملا چکا جے آئی ٹی نے بہت سا مواد حاصل کر لیا ہے اور یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی ہے ، پیرا نمبر چارپر سپریم کورٹ کاحکم تھا کہ بینچ کو اختیار ہو گاکہ وہ نواز شریف کی نااہلی کا حکم دے سکے اور اگر ریفرنس بھیجنا ہو گا تو وہ بھی بھیجا جا سکتا ہے ، پیرا نمبر چار کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی نااہلی کا فیصلہ کرنا چاہیے لیکن منی ٹریل اور دیگر معاملات پر ان کا ٹرائل ہو گا ، تین ممبران نے تیرا سوا ل دیئے تھے حالانکہ دو سوال اور بھی نکلتے تھے ۔ پانامہ جے آئی ٹی کی حیثیت دوسری جے آئی ٹیز سے مختلف ہے کیونکہ سپریم اس کی خود نگرانی کر رہی تھی اور رپورٹیں بھی لے رہی تھی،  کمشن بنانے کا قانون موجود ہے، آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی میں شامل کرنا اچھنبے کی بات نہیں ہے ،اصغر خان کیس میں فیصلہ دیاتھا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے پاس نالج ہوتا ہے اس لئے انہیں شامل کیا جاتا ہے اور انہوں نے رپورٹیں فائل کی ہوتی ہیں ،جے آئی ٹی سے حکومت کا نہیں سپریم کورٹ کا مطمئن ہونا ضروری ہے ،آف شور کمپنیزرکھنے والے دیگرافرادکے ساتھ بھی وہی سلوک ہوناچاہئے ۔انہوں نے  ارسلان افتخار کیس بارے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کیس کی میں نے کوئی جے آئی ٹی نہیں بنا ئی نہ میں اس بینچ کا حصہ تھا چیف جسٹس صرف لیڈر ہوتا ہے اور کوئی جج کسی کے ماتحت کام نہیں کرتا بلکہ بینچ کے صوابدید ہو تے ہیں تمام معاملات اور اس پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے کہا کہ63،62 کی دفعات ججوں کے لئے نہیں ممبران پارلیمنٹ کے لئے ہیں ججز کے لئے علیحدہ قوانین ہیں جاوید ہاشمی صاحب یاعوام کو ایسا لگتا ہے کہ ججز الیکشن لڑنے جا رہے ہوتے ہیں ، بہت سارے اراکین پارلیمنٹ دفعہ 63،62 پر اترتے ہیں ۔ نواز شریف63،62 پر پورا نہیں اترتے لیکن سپریم کورٹ میں کیس ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے اتنا زیادہ مواد آجا چکا ہے کہ میری قانون کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے بتاتا ہوں نواز شریف نہیں بچ سکتے ۔سابق چیف جسٹس نے کہاکہ میں اصول کے طور پر عمران خان کی مخالفت کرتا رہوں گا کیونکہ اس نے جھوٹے الزامات لگائے مجھے پر میں نے اس پر 20ارب روپ ہرجانے کا کیس دائر کیا ہوا ہے جو ہائیکورٹ میں پینڈنگ ہے میرے وکیل نے کہا ہے کہ وہ چیف جسٹس سے مل کر دوبارہ اس کیس کو شروع کر وائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ مجھے نکالنے میں کوئی ادارہ شامل نہیں تھا،ایک انفرادی شخص نے مجھے نکالامگر آج کے دورمیں عدلیہ آزادہے۔پرویزمشرف اتنادلیرنہیں تھاجتناوہ کہتاہے ،پرویزمشرف کی تمام جائیدادضبط ہے۔ان کے بلائے جانے کے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں ،عمران خان خان کوگرفتارنہ کرناموجودہ حکومت کی ناکامی ہے ،قانون سب کیلئے برابرہے ،اگرمشرف کاٹرائل ہوسکتاہے ،نوازشریف کاٹرائل ہوسکتاہے ،ذوالفقارعلی بھٹوکوعدالتی پھانسی کی سزاسنائی جاسکتی ہے توعمران خان اورطاہرالقادری کوسزاکیوں نہیں ہوسکتی اورانہیں گرفتارکیوں نہیں کیاجاسکتایہ کام حکومت کے ہیں اگر نہیں کرتی تو کسی کی نااہلی ثابت ہو تی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اصغرخان کیس اس لئے آگے نہیں بڑھ رہاکہ نوازشریف کرسی پربیٹھے ہوئے ہیں،میری بحالی میں نوازشریف اورعمران خان کاکوئی کردارنہیں تھا،میرے بحالی میں وکلاء،سول سوسائٹی اورمیڈیاکے علاوہ دیگرلوگوں نے قانون کی بالا دستی کے لئے حصہ لیا اور انہیں کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سانحہ12مئی کیس ایم کیوایم کے دباو¿کی وجہ سے تاخیرکاشکاررہاکیس کافیصلہ ضرورآئے گا،خداکے ہاں دیرہے اندھیرنہیں ہے ۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ نوازشریف کاکیس ماڈل سیٹ ہورہاہےمگر ان تمام لوگوں کی دولت پاکستان واپس آنی چاہئے جنہوں نے پاکستان کو لوٹا ہے پاکستان میں اس وقت پلوترکریسی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ تاثرغلط ہے کہ ججزاورجرنیلوں کااحتساب نہیں ہورہاہے ،ماضی میں ججزکے خلاف کارروائی ہوتی رہی اور راحیل شریف دورمیں پاک فوج کے اٹھارہ افسران کے خلاف کارروائی ہوئی،ملک میں اب مارشل لاءکاامکان نہیں ،سسٹم ڈی ریل نہیں ہوسکتا لیکن نواز شریف سمیت سب سیاستدانوں کو آئین وقانون کے سامنے سرجھکانا ہو گا تاکہ جمہوری نظام چلتا رہے انہوںنے جے آئی ٹی پرحکومتی اعتراض کے سوا ل کے جواب میں کہا کہ حکومت کا جے آئی ٹی اور تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ایک انفراد ی طور پر وزیر اعظم کا بطور ایم این اے کیس ہے ،جے آئی ٹی سے حکومت کا نہیں سپریم کورٹ کا مطمئن ہونا ضروری ہے اگر ایسا ہو جائے تو عدالتوں میں ہر کوئی اعتراضات اٹھا کر معاملات کو طول دیتا رہے گا اور عدالتیں اپنے کاموں کو نمٹانے میں ناکام ہو جائیں گی انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی پر اعتراضات صرف وقت ضائع کرنے کے بہانے سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے تمام اعتراض سننے کے بعد بھی جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں