زیورات کی مالک خواتین زکٰوة ادا نہ کریں تو انکے والدین اور شوہروں کو کیا کام کرنا چاہئے؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
zakat jewelry mufti

زکوة کی ادائیگی ہر صاحب نصاب مسلمان پر فرض ہے اور جو اس سے انکار کرتا ہے اسکو اللہ کی جانب سے سخت وعید دی گئی ہے ۔

ہمارے ہاں ایک رجحان یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جن خواتین کے پاس زیورات ہوتے ہیں اور وہ کوئی جاب وغیرہ نہیں کرتیں تو وہ زکوة ادا کرنے مین تامل کا اظہار کرتیں اور یہ حجت بھی قائم کرلیتی ہیں کہ کماتی نہیں یا گھریلوخواتین ہیں اس لئے زکوة ان پر واجب نہیں جبکہ شادی شدہ عورت کا شوہر بھی اسکی زکوة دینے میں کنجوسی اور ہٹ دھرمی دکھاتا ہے ۔ ایسی خواتین جن کے پاس سات تولے سے زائد سونا ہو،ان کو زکوة کیسے ادا کرنی چاہئے ۔اس بارے میں مفتی حافظ عرفان اللہ رضوی کا کہنا ہے کہ اگر کسی عورت کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا اس کے برابر مال و زر ہے اس پر زکوٰة و قربانی واجب ہے تو یہ زکوة و قربانی وہ اپنے پاس موجود مال سے بھی ادا کر سکتی ہے اور شوہر سے لیکر بھی ادا کرسکتی ہے۔زکوة نہ دینے کا کوئی عذرنہیں اسکے پاس۔جو خواتین والدین کی زیر کفالت ہوں اور انکے پاس نصاب کے مطابق سونا و زیورات موجود ہوں وہ بھی یا تو زکوة کے لئے زیور بیچنا یا انکے والدین کو انکی جانب سے اس کا اہتمام کرنا چاہئے۔مفتی حافظ عرفان اللہ رضوی نے کہا کہ نماز کے بعد زکوة کا حکم دیا گیا ہے،اس لئے کوئی مسلمان جس پر زکوة واجب ہو،اسکو انکار نہیں کرنا چاہئے۔یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن حکیم میں 82 مقامات ایسے ہیں جہاں نماز اور زکوة کی فرضیت کا حکم یکجا وارد ہوا ہے۔ زکوٰة کی اہمیت کا اندازہ تنہا اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حضور ﷺ کے وصال کے بعد سر زمین عرب میں ہر طرف فتنے سر اٹھانے لگے جن سے اسلامی ریاست کو نازک ترین صورتِ حال اور بحران کا سامنا کرنا پڑا تو اپنی سنگینی کے اعتبار سے سب سے بڑا چیلنج منکرین زکوٰة کا تھا۔اسلامی تاریخ کے اس انتہائی نازک لمحے میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیق ؓنے کمال جرآت ایمانی سے اکثر صحابہؓ کے مشوروں کے علی الرغم اس بات کا ببانگِ دہل اعلان کیا کہ جو کوئی نماز اور زکوٰة میں کسی قسم کی تفریق اور امتیاز روا رکھے گا میں اس کے خلاف جہاد کروں گا۔ چنانچہ امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے باغیوں کے خلاف کھلم کھلا جہاد کیا اور ان کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہ آئی جب تک منکرین زکوٰة کی برپا کی ہوئی شورش پوری طرح فرونہ ہوگئی۔ہم مسلمانوں کو زکوة کی ادائیگی میں پس و پیش نہیں کرنی چاہئے ورنہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں