آپ آج تک غلط طریقے سے دانت برش کرتے آئے ہیں، دانتوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو صحیح طریقہ جاننے کیلئے یہ خبر لا زمی پڑھیں
wrong way tooth brush cleaning teeth

بچپن سے ہی ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ دن میں دو باردانت برش کرنے چاہئیں اور ہر ماں باپ اپنے بچے کو برش کرنے کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں، لیکن اب ایک برطانوی ڈاکٹر نے اس مروجہ طریقے کو غلط قرار دے دیا ہے۔

 ہارلے سٹریٹ ڈینٹسٹ اور فوریو (FOREO)کے سفیر ڈاکٹر مارک ہفس کا کہنا ہے کہ ”عام طور پر لوگ برش کو صرف دانتوں پر رگڑتے ہیں اور پھر فوری بعد منہ کو پانی سے دھو ڈالتے ہیں۔ دانت برش کرنے کا یہ طریقہ قطعی غلط ہے۔ہمیں دانتوں کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں اور زبان کو بھی برش سے اچھی طرح صاف کرنا چاہیے، جو منہ کی مجموعی صحت کے لیے انتہائی ناگزیر ہے، اور پھر برش کرنے کے فوری بعد پانی سے منہ نہیں دھوڈالنا چاہیے۔“ڈاکٹر ہفس کے مطابق برش کے فوری بعد ٹوتھ پیسٹ کے فائدہ مند اجزاء، بشمول فلورین، ضائع ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چند منٹ تک پیسٹ کو دانتوں، مسوڑھوں اور زبان پر لگے رہنے دینا چاہیے۔ ہم میں سے اکثر لوگ برش کرتے ہوئے زبان کو نظر انداز کرتے ہیں حالانکہ زبان وہ جگہ ہے جہاں ایسے بیکٹیریا افزائش پاتے ہیں جو دانتوں کے سفید چمکیلے غلاف پر حملہ آور ہوتے اور اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ برش کرتے ہوئے زبان کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔اس کے علاوہ عموماً لوگ ٹوتھ برش کو باتھ روم میں ہی رکھتے ہیں، یہ بھی ایک سنگین غلطی ہے۔“ڈاکٹر ہفس کا کہنا تھاکہ ”باتھ روم میں خطرناک بیکٹیریا ہوتے ہیں۔ اگر برش وہاں رکھا جائے تو یہ بیکٹیریا برش کو لگ کر اس کے ذریعے ہمارے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہمیں برش کو ہمیشہ باتھ روم سے دور رکھنا چاہیے۔ماؤتھ واش کا استعمال بھی ہمارے منہ کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔تمام اقسام کے ماؤتھ واشز میں الکوحل پائی جاتی ہے جو ہمارے منہ کو خشک کرتی ہے اور منہ کی یہ خشکی بیکٹیریا کی افزائش کا سبب بنتی ہے۔چنانچہ ماؤتھ واشز منہ کی صحت کے اصولوں کے بالکل الٹ کام کرتے ہیں کیونکہ یہ بیکٹیریا کو ختم کرنے کی بجائے ان کی تعداد میں ہوشربا اضافے کا سبب بنتے ہیں۔“

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں