سپر مارکیٹ میں لوگوں کو کیسے دھوکہ دیا جاتا ہے؟؟؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
tricks super market fraud

کیا آپ سپر مارکیٹ میں خریداری کرتے ہوئے بچت کرنا چاہتے ہیں؟

پاکستان میں سپر مارکیٹ اسٹورز سے خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اکثر لوگ اپنے گھر کا ماہانہ سامان وہاں سے خریدنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ مگر کیا واقعی آپ اس طرح کوئی بچت کر پاتے ہیں ؟ یا بس یہ خیال ہی آپ کو خوش رکھتا ہے کہ ہم نے بچت کرلی؟ درحقیقت اس طرح کے سپر اسٹورز سے خریداری میں آپ کافی بچت کرسکتے ہیں تاہم کچھ نکات کو ذہن میں رکھ کر ان پر عملدرآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔

بغیر فہرست کے خریداری کے لیے جانا

یہاں آپ کے غذاﺅں کی تیاری کنجی کی حیثیت رکھتی ہے، اگر آپ کچھ ہفتوں کے کھانوں کی تیاری کا منصوبہ پہلے سے تیار کرلیں تو آپ خریداری بھی اسی کو مدنظر رکھ کر کریں گے اور بے مقصد چیزوں کی خریداری سے بچ سکیں گے جو استعمال بھی نہیں ہوتی جبکہ خرچہ ضرور بڑھ جاتا ہے۔

بھوکے پیٹ جانا

ویسے تو شاید عجیب لگے مگر سپر مارکیٹ میں خریداری کے لیے جانے سے قبل کچھ کھالینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں تو ان کا ذہن بھی بہت جلد بھٹک جاتا ہے اور ذہن للچانے والی بے مقصد اشیاءکی خریداری کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ویسے تو خریداری کے دوران ایک چیونگم چبانا بھی ان اسٹورز کی مارکیٹنگ حکمت عملیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ویک اینڈ یا صبح کے وقت خریداری کے لیے جانا

مانیں یا نہ مانیں مگر ان سپر مارکیٹس سے خریداری کے لیے بہتر دن اور وقت ہوتے ہیں، بیشتر افراد خریداری کے لیے ہفتہ وار تعطیل کو ترجیح دیتے ہیں، مگر عام دنوں میں ایسی اشیاءجن کی زندگی محدود ہو وہ سیل میں مل سکتی ہیں۔ اسی طرح عام دنوں میں لوگوں کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے اکثر رعایت بھی دیئے جانے کا امکان ہوتا ہے۔

سیل کے اعلانات کو نظرانداز کرنا

سپرمارکیٹس میں اشیاءپر سیل اتفاقیہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے خاص سوچ ہوتی ہے اور سپر مارکیٹوں کی جانب سے اکثر اشیاءپر سیل لگتی رہتی ہے، خاص طور پر سیزن کے لحاظ سے، جن کو نظرانداز کرنا جیب پر بھاری ثابت ہوتا ہے۔

زیادہ مقدار میں نہ خریدنا

سپر مارکیٹس میں زیادہ مقدار میں اشیاءکی خریداری عام طور پر سستی پڑتی ہے اور روزمرہ کی ایسی اشیاءجو خراب نہ ہوتی ہوں، انہیں زیادہ مقدار میں خریدنا طویل المعیاد بنیادوں پر بچت میں مدد دیتا ہے۔

ہر چیز زیادہ مقدار میں خریدنا

مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز کو زیادہ مقدار میں خرید لیا جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے غذائی اشیاءکا زیاں بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر آپ اشیاءکی قیمتوں کو ہمیشہ چیک کریں تو آپ دیکھیں گے کہ کچھ چیزوں کو کم مقدار میں خریدنا زیادہ لینے کے مقابلے میں سستا پڑتا ہے۔

برانڈز ناموں کو ترجیح دینا

ویسے تو ہر چیز برانڈ ناموں کے معیار کی نہیں ہوسکتی مگر کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے برانڈز اشیاءکی ضرورت نہیں بلکہ وہ عام کمپنیوں کی بھی کافی مناسب معیار میں مل جاتی ہیں جیسے گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیاءوغیرہ۔

بازار کی قیمتوں سے واقفیت نہ ہونا

کیا آپ کو معلوم ہے کہ بازار میں ایک لیٹر دودھ کس قیمت میں فروخت ہورہا ہے؟ اگر آپ کو معلوم نہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ سپر مارکیٹ میں زیادہ خرچہ کردیں۔ ہمیشہ قیمتوں سے آگاہی ہونی چاہیے خاص طور پر ان اشیاء کی جو آپ نے خریدنی ہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے جو چیز بازار میں سستی ہو وہ سپر مارکیٹ میں مہنگی ہو۔

اپنی آنکھوں کے سامنے موجود اشیاءکو منتخب کرنا

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر عام طور پر سپر مارکیٹس میں سستی اشیاءکو شیلف کے نچلے حصوں میں رکھا جاتا ہے جبکہ زیادہ مہنگی اشیاءکو آنکھوں کے سامنے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر افراد کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا اور وہ اپنی نظروں کے سامنے موجود اشیاءکو خرید کر زیادہ خرچہ کرلیتے ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں