سورۃ الرحمان سے خطرناک بیماریوں کا علاج جدید ماہرین طب اور سائنسدانوں نے بڑا قدم اٹھا لیا
surah rehman treatment islamabad

سائنسدان اور جدید طب کے ماہرین کے درمیان سورۃالرحمن سے موذی امراض کے علاج اور شعور اجاگر کرنے کیلئے اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں ماہرین نے مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو 7روز تک سورہ الرحمن کی تھیراپی کا تجربہ کر نے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن پاک کے حرف حرف میں شفا ہے

ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں سورہ الرحمن کی قرات سنانے کی پالیسی نافذ کی جائے۔ منگل کو سیمینار میں پمز ہسپتال اسلام آباد کی ماہر ہارٹ سرجن ڈاکٹر ماہ رخ خان ، سروسز ہسپتال لاہور شعبہ انتہائی نگہداشت کے ماہر ڈاکٹر محمد جاوید احمد، لمزیونیورسٹی کے شعبہ مالیکیولر بائیولوجی کے سائنسدان ڈاکڑ محمد طارق ، ڈائریکٹر ایس اینڈ آئی ارم حمید سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سروسز ہسپتال لاہور شعبہ انتہائی نگہداشت کے ماہر ڈاکٹر محمد جاوید احمد نے کہاکہ قرآن پاک کے حرف حرف میں شفا ہے ، ہم اس عمل کے گرینڈ ٹرائل کی طرف جا رہے ہیں ، کسی سائیڈ ایفکٹ کے بغیر یہ تجربات انسانوں پر ہو رہے ہیں اور اس عمل میں ہم نے دنیا کے مختلف ممالک کے ڈاکٹروں کو بھی شامل کیا ہے جبکہ لمز یونیورسٹی لاہور سار ے ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہیجبکہ انسانی دماغ اوربیکٹریا پر اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپیریشن کے مریضوں کیلئے سورہ الرحمن کی تھیراپی ایک بہترین رزلٹ ثابت ہو رہا ہے جبکہ انسانوں میں نفرت کے باعث ان میں بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں ۔ فزیشن کنسلٹنٹ پمز ہسپتال ڈاکٹر ماہ رخ خان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں سورہ الرحمن کی قرات سنانے کی پالیسی نافذ کی جائیاور اس کلام کو شفا کیلئے لاگو کیا جانا چاہے ۔ انہوں نے کہاکہ مریضوں کو اس تھیراپی سے ان کے مرض میں کمی ہو گی جبکہ مریضوں کو سات روز تک اس تھیراپی کا تجربہ ضرور کرنا چاہے کیونہ اس تھیراپی میں کوئی خرچہ نہیں ہے ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لمز کے پروفیسر محمد طارق کا کہنا تھا کہ سورہ الرحمن سے کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کیلئے ریسرچ شروع کر رہے ہیں ، سائنس دانوں کے پاس ملنے والا ڈیٹا بہت مضبوط ہے جس کا جائزہ کیا جا رہا ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق معاشرے میں بڑھتی ہوئی منفی سوچ بالخصوص نفرت ہوس حسد کینہ بغض و تعصب اورعدم برداشت نفسانیت و غاصبانہ سوچ کو جنم دیتی ہے ۔ یہ منفی رجحانات بالآخر مایوسی ڈپریشن غصہ بدلہ تشدد انتہا پسندی یا لاچارگی کے بعد ناصرف نشہ بازی بلکہ خودکشی کی حد تک لے جاتے ہیں۔ یہی منفی سوچ اور نفرت روح کی کمزوری کا باعث بنتی ہے اور یہ روحانی کمزوری ایک لاغر انسانی جسم کی صورت ظاہر ہوتی ہے ۔ یعنی نفرت ہر بیماری کی جڑ ہے ۔ روح کمزور ہوتی ہے تو جسم بیمار ہو جاتا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں