کن مرَدوں کی جانب سے عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟تحقیق کارو ں نے متنازعہ ترین دعویٰ کر دیا
sexual aggression man interesting women

 جنسی جرائم کے متعلق سویڈن میں کی جانے والی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ ان جرائم کا رویہ بڑی حد تک جینز پرمنحصر ہے اور جس خاندان کے مردوں میں جنسی جرائم کا رجحان پایا جاتا ہے ان کی اولادوں میں بھی اس کے منتقل ہونے کی شرح واضح طور پر زیادہ پائی گئی ہے۔

کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر نکلاس لینگسٹروم کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں 1973ءسے 2009ءکے درمیان جنسی جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد کا مطالعہ کیا گیا۔ ان میں سے 21566 افراد جنسی زیادتی، بچوں کے بارے میں فحش مواد رکھنے یا جنسی ہراساں کرنے کے جرائم میں ملوث تھے۔ ان افراد پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنسی جرم میں ملوث ہونے والے مردوں کے بھائیوں میں یہی جرم کرنے کی شرح عام لوگوں کی نسبت 5گنا زیادہ ہے جبکہ جنسی جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد کے بچوں میں یہی جرم کرنے کی شرح دیگر افراد کی نسبت چار گنا زیادہ ہے۔  سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنسی جرم کے جینز کسی بھی خاندان کے مردوں کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں اور اگر خاندان کا کوئی مرد جنسی جرائم میں ملوث ہے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ اس خاندان کے دیگر مردوں میں سے بھی کوئی اسی جرم کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جس خاندان کے کسی مرد کے جنسی جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہوں اس کے دیگر مردوں کو بہتر سماجی رہنمائی فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ شرمناک جرائم سے بچ سکیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں