میاں بیوی کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے
  • 0
  • 1

http://tuition.com.pk
respect husband wife

اگر عورت کو غصہ آ جائے تو جوتا اٹھا کر نہیں مار سکتی کیونکہ اسے تعلیم دی گئی ہے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔

اگر بدزبانی کرے تو مرد اس سے زیادہ بدزبانی کرنے کو موجود ہوتا ہے اور اگر گالی دے تو کسے دے؟ ہر گالی تو ماں بہن کے بارے میں ہوتی ہے، تو کیا اپنے آپ کو گالی دے؟مرد کے ہاتھوں عورت کی تضحیک کا رویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے۔گو کہ انگریزی بھی پیچھے نہیں۔ ان کے ہاں بھی عورت کو برے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور مرد کے لیے چند گنی چُنی گالیاں ہیں۔لیکن برِصغیر میں تو اوّل سے آخر تک ساری گالیاں صرف اور صرف عورت سے منسوب ہیں۔ گالیاں ہی نہیں، اکثر محاورے بھی عورت کی تذلیل کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ پیر کی جوتی عورت، عورت کا تو دماغ ہی چھوٹا ہے، عورت مکار ہوتی ہے، عورت کے پیٹ میں بات ہی نہیں ٹھہرتی، عورت کمزور ہوتی ہے، عورت لگائی بجھائی کرتی ہے، عورت کو مرد سے زیادہ زیور سے پیار ہوتا ہے، عورت بے وفا ہوتی ہے، عورت بد زبان ہوتی ہے، عورت کی گواہی آدھی ہوتی ہے، یہ سب باتیں عورت کے حوالے سے ہمارے رویے کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں توازن قائم رکھنے کے لئے عورت اور مرد کا آپس میں دوستانہ رویہ، باہمی عزت و احترام اور اور آپس میں مکالمہ انسانیت کی قدروں کا اساس ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت اور مرد کے درمیان گالیوں کا تبادلہ انسانیت کی ضد ہے۔بچہ جب خاندان اور علاقے میں استعمال ہونے والی گالیاں سیکھتا ہے تو اس کی نفسیات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے اندر بڑوں بالخصوص عورتوں کا احترام کرنے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ ماں جسے سب سے زیادہ احترام کا درجہ ملنا چاہیے، پھر اسی کے ساتھ تُو تڑاخ سے بولنے کو عین مردانگی سمجھتا ہے۔معاشرتی سطح پر دیکھیں تو ہر بے جان اور نحیف چیز کو نسوانیت سے منسلک کرنا اور طاقتور کو مردانگی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عورت کی نفاست، سلیقہ مندی اور آداب ہیں جو ایک مرد کو مرد بناتے ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں