سورج 44 دن سے خاموش ہے اور یہ اچھی بات نہیں
quit scientists sun

سورج 44 دن سے خاموش ہے اور یہ اچھی بات نہیں

خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج بہت جلد گہری خلائی شعاعوں کی بارش کرے گا جس کے باعث ہمارے ماحول کا بڑا حصہ تباہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے اعداد و شمار کے مطابق ہم اس وقت “Deep solar minimum” کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس اصطلاح کو سورج کی ہلکی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔سولر منیمم کاسمک ریز کے اس عملکو کہا جاتا جو زمینی ماحول کو چیر کر اس میں داخل ہو سکتی ہیں۔انگلینڈ کی برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر یون ایلس ورتھ کا ماننا ہے کہ سورج کی مقناطسیسی بناوٹ میں ہونے والے بنیادی بدلاؤ شاید شروع ہو چکے ہیں۔امریکی خلائی ادارے ناسا کے سولر ڈائنامک آبزرویٹری کی روزانہ بنیاد پر لی گئی سورج 44 دن کی تصاویر میں کوئی ہل چل ریکارڈ نہیں کی گئی۔جس سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب افراتفری کا دور قریب ہے۔ ماضی میں ایسا 2008 میں ہوا تھا۔زمینی ماحول ٹکرانے والی مذکورہ کاسمک ریز ائیر شاور پارٹیکلز کا سبب بنتی ہیں۔ جو خلا نوردوں کو بیمار سکتی ہیں، کسی سیٹلائٹ کو خراب کرسکتی ہیں، مواصلاتی نظام کو برباد کرسکتی ہیں اور پاور گرڈز کو بند کرسکتی ہیں۔ماضی میں 2008 سے 2009 کے درمیان جب ایسا ہوا تو سائنسدانوں نے اس کیلئے اقدامات کرنے کا مشورہ دیا، جس میں زمینی موحول کی اوپری تہہ کو ٹھنڈا کرنا اور کم کرنا شامل تھا۔ایلس ورتھ کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا 2019 تک ممکن ہے لیکن ہم ابھی سے اپنےستاروں میں عجیب واقعات کو نوٹ کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں لکھا کہ سورج کے گھومنے کی رفتار بھی 60 ڈگری کم ہوگئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں پکا نہیں پتا کہ کیا ہوگا لیکن اتنا کلئیر ہے کہ ہم غیر معمولی وقت سے گزر رہے ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں