وہ ذہنی مریض جسے خود کشی کی کوشش نے انتہائی ذہین طالبعلم بنادیا
mental patient genius student suicide

خودکشی کی کوشش کرنے والے اپنی زندگی سے تنگ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں لیکن ماضی میں ایک نوجوان جو اپنے پاگل پن کے ہاتھوں پریشان تھا مجبور ہو کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے سر میں گولی ماری لیکن خوش قسمتی سے وہ ناصرف بچ گیا بلکہ اس کے دماغ کا صرف وہ حصہ تباہ ہوا جس میں اس کی بیماری کے جراثیم تھے اور اس واقع کے بعد وہ کافی ذہین بھی ہوگیا۔یہ واقعہ British journal of psychiatryمیں چھپ بھی چکا ہے۔

  تفصیلات کے مطابق یہ بات 1988ءکی ہے جب کینیڈا کے جارج نامی ذہنی مریض کو عجیب عادت تھی یعنی وہ بار بار ہاتھ دھوتا تھا اور نہایا کرتا تھا۔ اس عادت کی وجہ سے اسے اپنی نوکری سے ہاتھ بھی دھونا پڑا تھا اور اسے سکول سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ اس بات پر وہ نوجوان بہت دلبرداشتہ ہو چکا تھا اور ایک دن اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی اور .22کیلی بر کی گولی اپنے سر میں ماری۔وینکوور شہر کے ذہنی مریضوں کے ہسپتال کے ڈاکٹر لیزلی سولیوم کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے گولی نے دماغ کا صرف وہ حصہ تباہ کیا جس میں اس کی بیماری والے جراثیم تھے اور یہ بھی ایک انوکھی بات تھی کہ وہ بچ بھی گیا اوربعد میں کالج میں داخلہ لے کر وہ ایک ذہین طالب علم کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں