بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں، بوجھ بنا دی جاتی ہیں
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
load daughter

پیلے جوڑے میں گھر بیٹھی حرا شدت سے اپنے سسرال سے آنے والے کھانے کا انتظار کر رہی تھی جس کے بارے میں اس کی خالا اور پھوپھی وغیرہ نے اسے بتایا ہوا تھا کہ مایوں کی دلہن کا کھانا سسرال سے آتا ہے۔ اسے انتظار کھانے کا نہیں بلکہ اس مان کا تھا جو اسے اس کھانے کی صورت میں اس کے سسرال سے دیا جانا تھا۔

مہندی کی تقریب میں عموماً دیر ہو ہی جاتی ہے، اسی وجہ سے اس کی سہیلی نادیہ بار بار کہتی رہی، ’’حرا کچھ کھا لو، کب تک بھوکی رہوگی؟‘‘ لیکن وہ پگلی تو اسی کھانے کے انتظار میں بھوکی بیٹھی تھی جو اس کے سسرال سے آنا تھا۔ آخرکار رات کے ڈیڑھ بجے جب اس کے تمام اہل و عیال گھر واپس آئے تو اس کی نظریں کچھ تلاش کرنے لگیں۔ اس کی نظروں کو جانچتے ہوئے حرا کی امی نے کہا، ’’کھانا نہیں آیا وہاں سے! دراصل کھانا کم پڑ گیا تھا۔ تم نے کھانا نہیں کھایا کیا؟‘‘ اس پر نادیہ نے جواب دیا، ’’نہیں آنٹی، حرا نے کھانا نہیں کھایا ابھی تک۔‘‘ایک دن کے وقفے کے بعد شادی تھی۔ اگلی صبح حرا کے سسرال سے اس کے سسر کی کال آئی اور انہوں نے احمد صاحب سے شکایت کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کے مہمان عجیب و غریب باتیں کررہے تھے۔ آپ لوگ بیٹی والے ہوکر ایسی حرکتیں کررہے ہیں ہم نے بھی اپنی بیٹیوں کی شادیاں کی ہیں۔ کہیں ایسا نہیں دیکھا کہ بیٹی والے یوں چڑھیں۔‘‘کال ختم ہونے کے بعد حرا کے والد کی آنکھیں نم ہوگئیں، اور ان نم آنکھوں کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ بیٹی جس پر انہیں ہمیشہ ناز رہا تھا، جس کے باعث ان کے کندھے فخر سے بلند رہے تھے، آج اسی بیٹی کی وجہ سے انہیں یہ احساس دلایا گیا تھا کہ آپ بیٹی کے والد ہیں تو جھک کر رہیے۔ احمد صاحب کو آج سے پہلے اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ بیٹیوں کے باپ کو جھکنا پڑتا ہے۔ اور احمد صاحب تو ماشاء الله سے چار بیٹیوں کے باپ تھے۔خیر، کال رکھنے کے بعد سب پوچھتے رہ گئے کہ کیا ہوا لیکن وہ حرا کی شکل دیکھ کر خاموش رہے اور بات ٹال دی۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب حرا، سعد کی دلہن بن کر اس کے گھر آگئی۔ اگلی صبح حرا کی ساس اُس کے کمرے کے تین چکر لگا چکی تھیں، یہ پوچھنے کے لیے کہ تمہارے گھر والے ’’ناشتہ کب تک لائیں گے؟‘‘یہاں حرا کی ساس اس سے سوال کر رہی تھیں، اور وہاں حرا اپنی امی کو بار بار کال کرکے پوچھ رہی تھی۔ آخرکار جب حرا کے گھر والے ناشتہ لائے تو اس کی ساس اور نندوں کے تیور چڑھ گئے اور کہنے لگیں، ’’اب تو گیارہ بج رہے ہیں۔ ہم نے تو ناشتہ کرلیا۔ دلہن اور دلہا کو ہی کروادیں۔‘‘وقت گزرتا رہا اور کچھ مہینوں بعد حرا کی اس کے سسرال میں پہلی عید آن پہنچی۔ تب تک حرا امید سے بھی ہوچکی تھی۔ عید کا پہلا دن سسرال میں گزارنے کے بعد دوسرے دن جب حرا نے اپنی ساس سے میکے جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے میکے جانے سے منع کردیا اور وجہ یہ بتائی کہ تمہاری پہلی عید تھی، عید کے پہلے دن تو تمہارے میکے سے کسی کو مٹھائی لے کر آنا چاہیے تھا، جس پر حرا نے جواب دیا، ’’ہماری طرف تو ایسی کوئی رسم نہیں ہوتی۔‘‘اس جواب پر حرا کی ساس مزید غصہ کرتی ہوئی کہنے لگیں، ’’تم اب ہمارے یہاں کے طور طریقوں پر اپنے میکے کے اصول مت ٹھونسو۔‘‘پھر کیا ہونا تھا، حرا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوگئیں۔ دوسری جانب اس کے والد احمد صاحب اپنی بیٹی کی شادی کے بعد پہلی عید کی دعوت کا بھرپور انتظام کرنے میں جُتے ہوئے تھے اور شدت سے حرا اور سعد کی راہ تک رہے تھے۔ لیکن ان دونوں کو نہ آنا تھا اور نہ ہی وہ آئے۔ جب احمد صاحب کے صبر کی انتہاء ہوگئی تب انہوں نے بالآخر حرا کو کال کردی۔حرا: ’’ہیلو ابو۔‘‘احمد صاحب: ’’سب خیریت تو ہے حرا؟ ہم کب سے تمہارا انتظار کررہے ہیں۔‘‘حرا: ’’ابو میں آپ کو کال کرنے ہی والی تھی۔ دراصل میری طبیعت خراب ہے۔ میں نہیں آسکتی۔‘‘احمد صاحب: ’’جھوٹ مت بولو! باپ ہوں میں تمہارا۔ مجھے بتاؤ کیا بات ہوئی ہے؟ اور آواز کیوں بیٹھی ہوئی ہے تمہاری؟‘‘حرا جو بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں کو قابو میں کئے ہوئی تھی، یہ الفاظ سن کر یکدم صبر کا دامن چھوڑ بیٹھی اور بے ساختہ رو پڑی جس پر احمد صاحب مزید پریشان ہو گئے، ’’کیا ہوا ہے حرا؟ مجھے بتاؤ، میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔‘‘حرا: ’’کچھ نہیں ابو۔ دراصل میری ساس نے آنے سے منع کردیا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے یہاں رواج ہے کہ عید کے پہلے دن لڑکی کے میکے سے کوئی مٹھائی لے کر آتا ہے۔‘‘احمد صاحب: ’’اگر ایسی بات تھی تو انہیں پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔ خیر، یہ بتاؤ کہ سعد کہاں ہے؟ میری کال بھی نہیں اٹھا رہا۔‘‘حرا: ’’وہ کہہ رہے ہیں کہ امی ٹھیک کہہ رہی ہیں اور مجھے اب تمہارے گھر نہیں جانا۔‘‘اس پوری رات حرا روتی رہی جب کہ وہ امید سے بھی تھی؛ اور اُدھر احمد صاحب پریشان رہے۔اگلے دن احمد صاحب بیٹی کے سسرال مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئے جس پر ان کے جانے کے بعد حرا کی ساس نے فرمایا، ’’ہم کوئی مٹھائی کے بھوکے تھوڑی ہیں لیکن کوئی طور طریقے بھی ہوتے ہیں۔ ہم بھی بیٹی بہو والے ہیں۔ وہ کیا سوچیں گی ہمارے بارے میں؟‘‘وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور حرا کی شادی کی پہلی سالگرہ آگئی جس پر سعد نے اسے سونے کی انگوٹھی بھی تحفے میں دی۔ تب تک وہ دونوں ماشاء اللہ سے ایک بیٹی کے والدین بھی بن چکے تھے۔ شام میں حرا نے اپنے گھر والوں کو دعوت پر بلایا ہوا تھا۔ حرا اس دن بہت خوش تھی لیکن شاید اس کی خوشیوں کو ہر بار ہی کسی کی نظر لگ جاتی تھی۔حرا کی ساس نے اکیلے میں سعد کو بلا کر خوب سنائیں، ’’تمہارے سسرال والوں نے ہمیں حرا کا سوا مہینہ مکمل ہونے پر دعوت نہیں دی تھی۔ وہ لوگ ہمیں عزت نہیں دیتے اور تم انہیں کھانے پر بلا رہے ہو۔ کس کی اجازت سے؟‘‘سعد جو کہ ضرورت سے زیادہ ہی اپنی والدہ کا فرمانبردار تھا، آکر حرا سےکہنے لگا، ’’اپنے گھر والوں کو رات کی دعوت پر آنے سے منع کردو۔‘‘حرا جو تھوڑی دیر پہلے تک بہت خوش تھی، پریشان ہو کر کہنے لگی، ’’لیکن سعد، امی ابو نے تو ساری تیاری مکمل کرلی ہیں۔ تحفے لے لیے ہیں۔ میں عین وقت پر کیسے منع کردوں؟‘‘اس پر سعد نے جواب دیا، ’’جب وہ میرے گھر والوں کی عزت نہیں کرتے تو میں اُن کی عزت کیوں کروں؟‘‘یہ سلسلہ تو شاید یوں ہی چلتا رہے گا، حرا کی زندگی یوں ہی گزر تی رہے گی اور شاید اسی طرح ہر بار اس کے والدین کو یہ احساس دلایا جاتا رہے گا کہ وہ ایک بیٹی کے ماں باپ ہیں لہٰذا جھک کر رہیں۔اب احمد صاحب اس کشمکش میں ہیں کہ ابھی تو ایک بیٹی کی شادی کی ہے، باقی تین کی کرنی ہے۔ نہ جانے آگے اور کیا کیا برداشت کرنا پڑے گا؟وہ سوچنے پرمجبور ہیں کہ کیا بیٹیاں واقعی بوجھ ہوتی ہیں یا بنا دی جاتی ہیں؟ہمارے معاشرے کی فضول رسم و رواج نے بیٹی کو رحمت کے بجائے زحمت بنا دیا ہے… وہ رسمیں کہ جنہیں بنانے والے بھی ہم خود ہیں اور ان پر عمل کرنے والے بھی ہم خود!لیکن پھر بھی ہم بھول جاتے ہیں کہ رسم و رواج انسانوں کےلیے ہوتے ہیں، انسان رسم و رواج کےلیے نہیں ہوا کرتے۔آپ سب سے گزارش ہے کہ ایک لمحے کےلیے ضرور سوچیئے گا کہ کیا بیٹیاں واقعی بوجھ ہوتی ہیں یا پھر ہمارے معاشرے میں رائج فرسودہ اور بے بنیاد رسوم و رواج کے ہاتھوں بوجھ بنادی جاتی ہیں؟

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں