جنوری کے پہلے پیر کی پہچان ’طلاق کے دن‘ کے طور پر کیوں؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
january day divorce

برطانیہ میں وکلا ماہ جنوری کے پہلے پیر کو 'طلاق کے دن' کا نام دے رہے ہیں۔

آخر سالِ نو کے پہلے ہفتے میں ہی طلاق سے متعلق درخواستوں کی تعداد غیر معمولی کیوں ہو جاتی ہے؟ کرسمس اور نئے سال کی آمد والی تاریخوں کے دوران نہ صرف لوگوں پر ذہنی دباؤ ہوتا ہے بلکہ رشتے بھی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں برطانیہ میں وکلا ماہ جنوری کے پہلے پیر کو 'طلاق کے دن' کا نام دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ وکلا برادری کو موصول ہونے والی طلاق کے بارے میں معلومات کی درخواستیں ہیں۔ جو کہ ہر سال جنوری کے پہلے ہفتے میں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ تو ایسا کیا ہوسکتا ہے کہ لوگوں کا ذہن دسمبر کے بعد جنوری کے پہلے ہفتے میں طلاق لینے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے؟ رشتوں میں بہتری کے لیے کام کرنے والے برطانوی فلاحی ادارے 'ریلیٹ' کے مطابق برطانیہ میں 55 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ کرسمس اور نئے سال کی آمد والی تاریخوں کے دوران نہ صرف لوگوں پر ذہنی دباؤ ہوتا ہے بلکہ رشتے بھی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ریلیٹ کے لیے کام کرنے والی ایک کاؤنسلر سیمون بوس کہتی ہیں کہ 'یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ کرسمس کی وجہ سے طلاق اور علیحدگیاں ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ کے رشتے میں پہلے ہی تناؤ ہے یا ایک جوڑے کو مالی یا خاندانی مشکلات کا سامنا ہے تو یہ وقت ایسا ہوتا ہے جو کہ آپ کو کوئی نہ کوئی اقدام لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اس دوران بہت سے رشتوں میں پہلے سے موجود تناؤ حد سے بڑھ جاتا ہے۔ ‘ کچھ جوڑے اس وقت کے دوران اپنے بچوں اور خاندان کی وجہ سے اپنے رشتے میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ انہی بنیادوں کی وجہ سے مسائل کو سہہ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے جوڑے تنگ آکر یا تو طلاق جیسا سنگین قدم اٹھاتے ہیں یا پھر ریلیٹ اور ان جیسے دوسرے فلاحی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ برطانیہ میں متعلقہ عدالتوں میں کرسمس کے دن سے لے کر نئے سال کے پہلے دن تک طلاق کی 455 آن لائن درخواستیں موصول ہوئیں۔ ایک اور فلاحی ادارے 'ایمیکیبل' کا کہنا ہے کہ اس ماہ انٹرنیٹ پر طلاق کے بارے میں سرچ کرنے والے لوگوں کی تعداد چالیس ہزار سے اوپر ہے۔ ایمیکیبل کی موجد کیٹ ڈیلی کہتے ہیں کہ کرسمس اور نئے سال کے دوران لوگ ویسے ہی بہت جذباتی ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ جوڑے اس وقت کے دوران اپنے بچوں اور خاندان کی وجہ سے اپنے رشتے میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ انہی بنیادوں کی وجہ سے مسائل کو سہہ لیتے ہیں۔ جبکہ باقی جوڑے جو کہ خوش نہیں ہیں اس دوران اپنے رشتے کو ایک آخری موقع دینے کا طے کرلیتے ہیں۔ بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ لوگ آپس میں اس طرح کی مشکل گفتگو نہیں کر پاتے، خاص طور سے جب وہ کرسمس اور نئے سال کے حوالے سے پلان بنا رہے ہوں جب سارا خاندان اکھٹا ہوتا ہے۔ اگر کسی کو اپنے ازدواجی رشتے میں کشیدگی کا سامنا ہے تو چھٹیوں کے دوران اکٹھے وقت گزرانا مشکل ہو جاتا ہے اور دفتر کے دنوں میں جس طرح روز مرہ کے کام یا دوسرے مشاغل دھیان بانٹے رکھتے ہیں وہ بھی نہیں ہو سکتا۔ لوگ نئے سال کو نئے آغاز کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ بارہ ماہ کے بعد اپنے آپ کو اسی صورتحال میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں