سیوریج کے پانی میں سائنسدانوں کو 18 کروڑ روپے کی قیمتی ترین چیز مل گئی، کیا چیز تھی؟ جان کر آپ کا بھی دل کرے گا کہ گٹر میں۔۔۔
digging found expensive thing

پسماندہ ممالک کے غریب عوام کو سونے جیسی قیمتی چیز دیکھنے کو مل جائے تو بڑی بات ہے، لیکن دوسری جانب امیر ترین یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کا حال دیکھیں کہ اس کے گٹر بھی سونا اگل رہے ہیں۔
 سوئٹزرلینڈ کے سوئس فیڈل انسٹی ٹیوٹ آف اکویٹک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ملک میں سیوریج کے پانی میں ہر سال تقریباً 43 کلو گرام سونا شامل ہوتا ہے، جس کی مجموعی مالیت 1.8ملین ڈالر (تقریباً 18 کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہناہے کہ جنوبی تسینو کے خطے میں تو سیوریج کے پانی میں سونے کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ یہاں اسے نکالنے کے لئے باقاعدہ صنعت قائم کی جاسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجہ اس علاقے میں قائم گولڈ ریفائنری کی صنعت ہے، جس کے سینکڑوں یونٹ مختلف مقامات پر کام کررہے ہیں۔ تحقیق کے دوران 64 سے زائد واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے پانی میں موجود دھاتوں کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ سیوریج کے پانی میں صرف سونا ہی نہیں بلکہ ہر سال تقریباً 3000 کلو گرام چاندی بھی شامل ہورہی ہے۔ یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ سونے کی تلخیص کی صنعت کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک کی گولڈ ریفائنری صنعت ہر سال دنیا بھر کے سونے کا تقریباً 70 فیصد سونا ریفائن کرتی ہے۔ یہ سونا امریکا سے لے کر مشرق وسطٰی اور بھارت تک کی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں