اس پھل کو کھانے کی عادت بنانا صحت کے لیے ضروری ہے
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
fruits health water caltrop

اس موسم میں گلی کوچوں میں ایک سوغات عام ملتی ہے جس کی شکل اکثر افراد کو زیادہ پسند نہیں آتی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں زیادہ کھایا بھی نہیں جاتا اور وہ ہے سنگھاڑے۔

یہ پھل یا سوغات سارا سال ہی دستیاب ہوتی ہے مگر سردیوں میں اسے زیادہ کھایا جاتا ہے۔ سنگھاڑے سردیوں میں منہ چلانے کے لیے بہترین چیز ہے۔ چونکہ یہ ہلکے بہتے پانیوں پر اگتا ہے۔ اس لیے پھل میں اس وقت کچھ نقصان دہ مواد ہوسکتا ہے جب اسے تازہ تازہ فروخت کیا جائے مگر مناسب طریقے سے دھونے کے بعداس کا توازن بحال ہوجاتا ہے۔ اس پھل کو خام یا ابال کر کھایا جاتا ہے۔ اس کے خشک پھل کو چکی میں ڈال کر آٹا بھی بنایا جاتا ہے جسے سنگھاڑے کا آٹا کہا جاتا ہے۔ ٹھنڈی تاثیر سنگھاڑے تاثیر میں ٹھںڈے ہوتے ہیں تو معدے کی گرمی دور کرنے کے لیے فائدہ مند ثابتے ہوتے ہیں، جبکہ انہیں کھانے سے پیاس زیادہ محسوس ہوتی ہے، جس سے جسم میں پانی کی کمی کودور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کم کیلوریز یہ صحت مند طرز زندگی کے لیے بہترین غذا ہے جس میں غذائی اجزاءکی مقدار زیادہ جبکہ کیلوریز لگ بھگ نہ ہونے کے برابر ہے، آدھا کپ سنگھاڑوں میں محض 0.1 فیٹ ہوتا ہے۔ یرقان کے خلاف مفید جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کے باعث یہ یرقان کے مریضوں کے لیے بہترین سوغات ہے، مریض اسے خام شکل میں کھائیں یا جوس کی صورت میں استعمال کریں، یہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر کم کرے سنگھاڑے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور ایسا ہونے سے امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، 5 سنگھاڑوں میں روزانہ درکار پوٹاشیم کی مقدار کا 5 فیصد حصہ موجود ہوتا ہے۔ دل متلانے کی کیفیت دور کرے سنگھاڑے کا جوس پینا دل متلانے کی کیفیت کو دور کرتا ہے یا یوں کہہ لیں متلی کی شکایت ختم ہوتی ہے۔ اچھی نیند میں مددگار اس میں موجود وٹامن بی سکس اچھی نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے اور بے خوابی کی شکایت دور کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ وٹامن مزاج پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ بالوں کی نشوونما چونکہ اس میں پوٹاشیم، وٹامن بی اور ای جیسے اجزاءموجود ہیں جو کہ صحت مند بالوں کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سنگھاڑے کھانا بالوں کی نشوونما بہتر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ جراثیم کش سنگھاڑے پولی فینولک اور فلیونوئڈ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو بیکٹریا اور وائرس کش ہونے کے ساتھ ساتھ کینسر کی روک تھام کا کام بھی کرتے ہیں۔ حاملہ خواتین کے لیے بھی مفید سنگھاڑے کے آٹے سے بنائے جانے والا دلیہ زیادہ کریم والا ہوتا ہے۔ اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو جریان خون کو کنٹرول کرنے کے لیے اسے دیا جاتا ہے۔ اس کے خشک بیج خون کے بہاؤ کو روک دیتے ہیں اور خواتین میں اسقاط حمل کے مسائل پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سنگھاڑے کا دلیہ انتڑیوں کے لیے مفید ہے اور اندرونی حرارت کو دور کرتا ہے۔ جسمانی وزن میں کمی سنگھاڑے میں چونکہ کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے تو یہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود اجزاءکھانے کی اشتہا کی روک تھام کرتے ہیں اور بے وقت منہ چلانے کی عادت کو کنٹرول کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کھانسی کو کنٹرول کریں سنگھاڑے کا سفوف کھانسی سے ریلیف کے لیے موثر ثابت ہوتا ہے، سنگھاڑے کو پیس کر سفوف بنالیں اور پانی کے ساتھ دن میں دوبار استعمال کریں، یہ کھانسی سے فوری ریلیف دینے والا ٹوٹکا ثابت ہوگا۔ خون صاف کرے سنگھاڑے کا استعمال جسمانی ورم دور کرنے کے ساتھ خون کو بھی صاف کرتا ہے، جس سے جلد بھی جگمگانے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے بہترین سوغات ہے۔ سنگھاڑے کے حوالے سے چند احتیاطیں ان تمام تر فوائد کے برعکس کچھ احتیاطبی تدابیر کو اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا انحصار کسی فرد کے نظام ہاضمہ پر ہوتا ہے۔ ایک صحت مند شخص دس سے پندرہ گرام سنگھاڑے روزانہ کھا سکتا ہے مگر اس سے زیادہ گیس پیدا ہونے یا معدے میں درد کا باعث بن سکتا ہے، وہ لوگ جو قبض کے شکار ہو انہیں اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اسے کھانے کے آدھے گھنٹے بعد تک پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے۔ ذیابیطس کے مریض اس کی معتدل مقدار استعمال کریں کیونکہ تازہ پھل میں نشاستہ اور کاربوہائیڈیٹ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ سنگھاڑوں کو خریدتے ہوئے خیال رکھیں کہ وہ مضبوط، جھریاں نہ ہو اور کہیں سے نرم نہ پڑ چکا ہے ورنہ جب آپ چھلکے اتاریں گے تو آپ کو نرم اور نرم گودا ملے گا۔ ایسے سنگھاڑوں کو نہ کھائیں جو دیکھنے میں ناکارہ لگ رہا ہو یا اس کا ذائقہ خراب ہو

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں