ڈالر افغانستان اسمگل ہونے کا انکشاف، قیمت مزید بڑھنے کی افواہیں
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
smugling dollar afghanistan

جڑواں شہروں کی فارن ایکسچینج مارکیٹ سے روزانہ کی بنیاد پرکروڑوں روپے مالیت کے ڈالر افغانستان اسمگل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

اوپن مارکیٹ میں 139 روپے میں فروخت ہونیوالا امریکی ڈالر طورخم بارڈرکراس کرکے افغانستان کی بلیک مارکیٹ میں 142 روپے میں فروخت ہورہا ہے، طورخم بارڈر کے پار بلیک مارکیٹ میں ڈالر کی خریدو فروخت نے قانونی طریقے سے کاروبار کرنیوالے منی چینجرز کو مشکلات سے دوچارکردیا۔منی چینجرز کا کہنا ہے کہ ڈالر کی بلیک مارکیٹ تک اسمگلنگ کو روکا جائے تو اس کی بڑھتی قیمت کو روکا جاسکتا ہے جبکہ قانونی طریقے سے خریدو فروخت سے ملکی زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایکسپریس نے لوکل مارکیٹ میں سروے کیا تو قانونی طور پر ڈالر کی خریدو فروخت کرنیوالے تاجروں نے شکایتوں کے انبار لگا دیے۔منی چینجرز نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر جڑواں شہروں سے کروڑوں روپے مالیت کے ڈالر بلیک مارکیٹ میں کاروبار کرنیوالے افراد خریدتے ہیں جس کو پشاور سے براستہ طورخم بارڈر افغانستان اسمگل کیا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ وہاں ڈالرکی قیمت میں 3 روپے اضافہ ہے۔منی چینجرز نے بتایا کہ بلیک مارکیٹ سے منسلک افراد پاکستانی روپے کی گرتی قدر سے مزید فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ پاکستان میں ڈالر 150 تک جائیگا جس سے مقامی سرمایہ داروں کی بڑی تعداد روپے کو ڈالر سے تبدیل کررہی ہے تاکہ منافع کمایا جاسکے۔منی چینجرز کا کہنا تھا کہ حکومت بلیک مارکیٹ کے ذریعے ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ کو روکے توچنڈ گھنٹے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہوجائیگا اور لیگل چینل سے ڈالر کی خریدوفروخت سے پاکستانی زر مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں