ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
salary retirement lahore high court

سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین بنیادی تنخواہ کا 70 فیصد بطور پنشن ملنے کے حقدار ہوں گے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں فل بینچ نے گزشتہ روز نیشنل بینک کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے بارے میں محفوظ فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ نیشنل بینک سٹافسروس رولز مجریہ1973ء کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین 1977ء کے سرکلر کے مطابق ریٹائرمنٹ پر بنیادی تنخواہ کا 70 فیصد بطور پنشن وصولی کے حقدار ہیں۔عدالت نے ملازمین کی پنشن کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف نیشنل بینک کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ فنانس ڈویژن حکومت پاکستان سے جاری ہر نوٹیفکیشن اور سرکلر قانونی تصور ہوگا جس پرکئی دہائیوں تک عمل درآمد ہوا ہو۔عدالت نے نیشنل بینک کے ملازمین کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کردیا۔تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک نے1999ء کو ایک سرکلر جاری کرکے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں اضافہ کیا اور ان کی پنشن ستر فیصد سے کم کرکے بنیادی تنخواہ کے33 فیصد کے برابرکردی جبکہ 1977ء کے سرکلرکے مطابق پنشن بنیادی تنخواہ کے ستر فیصدکے برابر تھی۔ریٹائر ملازمین نے پنشن کم کرنے کیخلاف لاہور اور پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشنز دائرکی تھیں۔لاہور ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن منظورکی جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے خارج کردی۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف نیشنل بینک اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف ملازمین نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائرکی تھیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں