بے روز گار نوجوان تیاری کرلیں ، وزیراعظم نے شاندارا علان کردیا
motorway national highway nawaz sharif

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلا ت کو آئی جی موٹر وے نے آ گاہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اور موٹر ویز کا سفر محفوظ و آرام دے بنانے کیلئے وزیراعظم پاکستان نے مزید 11 ہزار تقرریوں کی منظوری دے دی ہے، یہ تقرریاں تین مراحل میں تین سالوں میں مکمل ہوں گی

 دسمبر تک ساڑھے تین ہزار تقرریاں عمل میں لائی جائیں گیاوران کی ٹریننگ کا مسئلہ ہوگا اس کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں،اس وقت بھی7 ہزار ملازمین موٹر ویز اور ہائی ویز پر سفر کے دوران معاونت کیلئے مامور ہیں جبکہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلا ت کے چیئرمین سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کیلئے بجٹ نہ رکھ کر ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا ہے، مغربی روٹ کو راہداری کی حیثیت کا تعین بھی نہیں ہوسکا تو اس روٹ کیلئے زمین کا حصول کیسے ممکن ہو سکتا ہے ،انہوں نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ N-70 اور N-50 سے این ایچ اے فارغ کیے گئے ملازمین کو بحال کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل بنا یا جائے ۔جمعہ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلا ت کے چیئرمین سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے اجلاس کی صدارت کہا ہے کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کیلئے بجٹ نہ رکھ کر ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بجٹ میں مغربی روٹ پر زمین کے حصول کیلئے صرف دکھاوے کیلئے بجٹ رکھا گیا تھا جو یقیناًکبھی بھی اس روٹ پر خرچ نہیں ہوگا۔ اور کہا کہ مغربی روٹ کو راہداری کی حیثیت کا تعین بھی نہیں ہوسکا تو اس روٹ کیلئے زمین کا حصول کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے خطاب میں وزیراعظم نے خود تسلیم کیا ہے کہ ملک میں موٹرویز کا جال بچھا دیا ہے اور گوادر کو کوئٹہ بلوچستان سے منسلک کیا گیا ہے جو اس بات کی گواہی اور سچائی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے بقول وزیراعظم پاکستان موٹر وے کے ساتھ منسلک کرنے تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے ہدایت دی کہ N-70 اور N-50 سے این ایچ اے فارغ کیے گئے ملازمین کو بحال کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل بنا یا جائے ۔ اور مغربی روٹ پر شاہراؤں اور سٹرکوں کی لمبائی کے مطابق موٹر وے پولیس کے ملازمین کی تعداد اور بھرتیوں کے حوالے سے اگلے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی جائے ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ سینیٹر چوہدری تنویر خان کے سوال برائے جی روڈ پشاور سے لاہور پر نیشنل ہائی وے کی طرف سے لیز پر دی جانے والی زمین ، سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی ایوان بالاء کے اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے بلوچستا ن کے مقامی انجینئروں کو ہٹا کر دوسرے صوبوں سے تعیناتی کے معاملات اور مالی سال 2016-17 اور 2017-18 میں نیشنل ہائی اتھارٹی کے بجٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ کمیٹی اجلاس میں مرحوم سینیٹر آغا شہباز درانی کے ایصال ثواب کیلئے دعا مغفرت بھی کی گئی ۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ چیئرمین این ایچ اے نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ٹول پر ریٹس میں کمی کی جائے گی مگر وہ ابھی تک نہیں ہوئی ۔ سینیٹر اسلام الدین شیخ نے کہا کہ ملتان سکھر موٹر وے پر ان کی کرن نامی شوگر مل ہے وہاں اوور ہیڈ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی موٹر وے پر کام شروع ہے مگر اوور ہیڈ بنانے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ۔ جس پر چیئرمین این ایچ اے نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔ آئی جی موٹر وے نے کمیٹی کو بتایا کہ نیشنل ہائی وے اور موٹر ویز کا سفر محفوظ و آرام دے بنانے کیلئے وزیراعظم پاکستان نے مزید 11 ہزار تقرریوں کی منظوری دے دی ہے یہ تقرریاں تین مراحل میں تین سالوں میں مکمل ہو گئیں ۔ دسمبر تک ساڑھے تین ہزار تقرریاں عمل میں لائی جائیں گی مگر ان کی ٹریننگ کا مسئلہ ہوگا اس کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابھی 7 ہزار ملازمین موٹر ویز اور ہائی ویز پر سفر کے دوران معاونت کیلئے مامور ہیں ۔ سینیٹر اشوک کمار نے کہا کہ حب شہر میں سٹرک انتہائی خراب ہو چکی ہے گڑھوں کی وجہ سے لوگوں کا سفر کرنا محال ہو چکا ہے ۔ سینیٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے انجینئر ز ، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو این ایچ اے نکال کر دیگر صوبوں سے تقرریکی جا رہی ہے اس سے لوگوں میں نفرت او ر منفی جذبات میں مزیداضافہ ہوگا ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی 2016-17 کیلئے 45 پرانے اور 6 نئے منصوبے مختص کیے گئے ہیں ۔ کمیٹی کو جاری منصوبوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ گزشتہ اجلاسوں میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد سے بھی تفصیل سے آگاہ کیا گیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے میں52 ملازمین ڈیپوٹیشن پر تھے12 کو واپس بھیج دیا گیا ہے 40 ابھی کام کر رہے ہیں ۔ لیاری ایکپریس منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔M-9 پر ایمرجنسی بریک بنانے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ کمیٹی کی سفارش سے متعلقہ کمپنیوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے ۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرزچوہدری تنویر خان ، جہانزیب جمال دینی کی طرف سے ایوان بالاء میں اٹھائے گئے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد معاملہ نمٹا دیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز سجاد حسین طوری ، اشوک کمار ، نگہت مرزا ، کامل علی آغا، اسلام الدین شیخ ، ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی اور چوہدری تنویر خان کے علاوہ سیکرٹری مواصلات و چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں