قومی اسمبلی ؛ مزدور کی کم از کم تنخواہ 15400 روپے مقرر کر دی گئی
labour salary budget opposition

اپوزیشن کی عدم موجودگی میں قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی گئی۔

بائیکاٹ کے باعث اپوزیشن کی 2 ہزار سے زائد کٹوتی کی تحریکیں مسترد کرکے وزارتوں اورڈویژن کیلیے 34 کھرب50 ارب 93 کروڑ 55 لاکھ روپے کے150 مطالبات زر کی یکطرفہ اتفاق رائے سے منظوری دی گئی جبکہ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے مزدورکی اجرت میں1400 روپے اضافے، زرعی قرضوں کی حدبڑھانے، در آمد ات پرکسٹم ڈیوٹی میں کمی کااعلان کیا۔ تفصیلات کے مطابق تقاریر براہ راست نشر نہ کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے پھرواک آوٹ کیا، بائیکاٹ سے قبل اپنے خطاب میں خورشید شاہ نے کہاکہ وزیر خزانہ کومبارکباددی کہ دوسراموقع ہو گاجب ان کی تقریر براہ راست نشرہوگی،انھوں نے کہاکہ اسلامی اتحاد کاکیا مقصد ہے، وزیراعظم اسلامی عسکری اتحاد کی وضاحت پارلیمنٹ میں کریں،راحیل شریف کوکس شرط پرسعودی عرب بھیجاگیا،حکومتی بیانات آئے تھے کہ جب تک ٹرم آف ریفرنس طے نہ ہوںراحیل شریف کو این اوسی جاری نہیں کیاجائیگا۔ وزیراعظم پارلیمنٹ کو دورہ سعودی عرب کے بارے میں اعتمادمیں لیں،اس کیساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے وزیر خزانہ کی تقریر اور اجلاس کی دیگر کارروائی کا بائیکاٹ کردیاجس کے بعدحکومت نے اپوزیشن کی عدم موجودگی میں لازمی اخراجات کی منظورi کروالی اور قومی اسمبلی میں پہلی باروفاقی بجٹ پر بحث کو اپوزیشن کی عدم موجودگی میں یکطرفہ طور پرسمیٹاگیاہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 2017-18کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کہاکہ آئندہ مالی سال میں مزدور کی کم از کم اجر ت کی حد 15ہزار 400 روپے مقرر کر دی گئی ہے چھوٹے کاشتکار وںپر زرعی قرضوں کی حد بڑھاکر 75000 روپے، ڈیزل پر چلنے والے انجن پر سیلز ٹیکس ختم ، اسلامی سکوک میں20 لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ ، ایکسپورٹ سیکٹرزکے لیے ایکسپورٹ ٹیکس کی شرح کو 2فیصد سے کم کرکے 1 فیصد ،فیڈ گیس کیلئے ایل این جی پر سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیاگیاہے ۔ ہمیں سینیٹ کی طرف سے 276 تجاویز موصول ہوئیں جن میں سے147  کاتعلق منصو بوں اور پی ایس ڈی پی سے تھااور ان کو ہم نے پلاننگ اینڈ ریفارمز ڈویژن کو بھجوادیاہے۔بقیہ 129 تجاویز میں سے 75 کلی یاجزوی طور پر منظور کر لی گئی ہیں یااصولی طور پر ان سے اتفاق کیاگیاہے۔بعض لوگ یہ غلط تاثر پھیلارہے ہیں کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں بے تحاشااضافہ ہو گیاہے،بعدازاں اجلاس(آج) بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں