ٹیکس وصولیاں توقع سے کم، بڑی صنعتوں کی کارکردگی کمزور رہی، اسٹیٹ بینک
industries tax return weak performances

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جولائی تاستمبر2016 کی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی کارکردگی کوکمزورقراردیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی آمدنی کم ہونے کے باعث مالیاتی خسارہ بڑھا، کم شرح سود کے باوجود سودی ادائیگیاں کم نہ ہوئیں تاہم مہنگائی 6 فیصد کے ہدف میں رہنے کی توقع ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک نے جمعہ کوسال2016-17 کی پہلی سہ ماہی کے لیے جاری ہونے والی جائزہ رپورٹ میں کہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ سہ ماہی کیابتدائی معاشی اعدادوشمارسال کے دوران معاشی نمو کی مستحکم رفتار کو ظاہر کرتے ہیں، گنے اور مکئی کی پیداوار میں مضبوط نمو، کپاس کی پیداوار میں بہتری اور چھوٹی فصلوں کی بہتر رسد سے بھی زراعت کی نمو میں کچھ بحالی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) کی کمزور کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے رپورٹ میں توقع ظاہرکی گئی ہے کہ معاون پالیسیوں اور گاڑیوں، چینی، ادویہ اورتعمیرات سے متعلق شعبوں میں حوصلہ افزا امکانات کے پیشِ نظرآگے چل کر نمو کی رفتار بڑھنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سہ ماہی میں اوسط عمومی مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (سی پی آئی) بڑھ کر 3.9 فیصد ہو گئی جو گزشتہ مالی سال کی اس سہ ماہی میں 1.7 فیصد تھی تاہم یہ اضافہ توقعات کے مطابق تھا، پورے سال کے لیے مہنگائی 6 فیصد کے ہدف میں رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ سہ ماہی میں نجی شعبے کے قرض کی بھاری مقدار میں واپسی جون میں قرضوں کے غیرمعمولی استعمال سے ہم آہنگ تھی لیکن تاریخی پست شرح سود کے باوجود بڑے کارپوریٹس نے مزید قرض گیری سے گریز کیا تاہم مثبت پیشرفت معینہ سرمایہ کاری  خصوصاً توانائی سے متعلق سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے قرضے کی طلب میں اضافہ تھا۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اور جاری کھاتے کے خساروں میں اضافہ ہوا جس کا بنیادی سبب اتحادی سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) کی مد میں رقوم کی عدم موجودگی تھی، جاری کھاتے پر اضافی دباؤبڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور ترسیلات زر میں کمی سے آئی، دوسری طرف مالی خسارے کو بڑھانے میں غیرٹیکس محاصل اور توقع سے کم ٹیکس وصولیوں نے کردار ادا کیا تاہم رپورٹ میں حکومت کی جانب سے زرِاعانت میں کٹوتی کے بعد جاری اخراجات میں معمولی کمی کو سراہا گیا، سودی ادائیگیوں میں تبدیلی نہیں ہوئی کیونکہ کم شرح سود سے حاصل ہونے والے فوائد سرکاری قرض میں اضافے کے باعث بڑی حد تک زائل ہو گئے۔ رپورٹ میں ترقیاتی اخراجات میں 12.4 فیصد سال بہ سال اضافے کو مثبت قرار دیا گیا خاص طور پر صوبوں کی جانب سے، جس کی وجہ سے سہ ماہی میں ان کے انفراسٹرکچر پر اخراجات بڑھ گئے۔ رپورٹ میں بلند معاشی نمو کے لیے نجی کاروباری اداروں کے کردار کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں